طائر جہاں گرد | جمیل احمد | سید محمد زیشان | The Wandering Falcon Franz KafkaThe Wandering Falcon Book by Jamil Ahmad The Wandering Falcon 1931 " 1954 12 2014 1979 "The Wandering Falcon" 2011 9 Tor Baz ( ) " " Pawindah : Mullah Barrer, Ghunjcha Gul Bhitanis The sin of the mother : "The Kharot The Wandering Falcon
جب کوئی یاد دلاتا ہے تو یاد آتا ہے ۔کہ یہ دکھ تو میرا بھی ہے۔یہ سب تو میں بھی جی رہی ہوں ۔یہ میری آپ بیتی ہے ۔ان تمام خواتین کی کہانی ہے ۔جنہیں خود کو مضبوط ثابت کرنے کیلئے سارے رشتوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے ۔
لینن ازم کے خیالات، بالشویک پارٹی کا نصب العین مصنف کو جوش دلاتے تھے۔ جان ریڈ کی کتاب عالمی ادب کی وہ پہلی تصنیف تھی جس میں روس میں فتحیاب سوشلسٹ انقلاب کے بارے میں، جس نے نوع انسانی کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا، سچائی بتائی گئی۔
قاضی جاوید کا شمار پاکستان کے اُ ن اہل علم میں ہوتا ہے جنھوں نے فلسفے اور سماجی و فکری تحریکوں کو اپنے مطالعہ کا موضوع بنایا ہے۔ انھوں نے فلسفے پر متعدد کتابیں لکھی اور ترجمہ کی ہیں۔ پاکستان میں فلسفے پر لکھنے والے بہت ہی کم ہیں اور جو ہیں وہ زیادہ تر انگریزی کو ذریعہ اظہار بناتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے خیالات عام پڑھے لکھے فرد تک نہیں پہنچ پاتے۔ قاضی جاوید نے اس کے برعکس فلسفے جیسے ادق موضوع کو اردو بیان میں کیا ہے جس کی وجہ سے وہ قارئین کا ایک وسیع حلقہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ انھوں نے برٹرینڈرسل کی خود نوشت سوانح عمری، اس کے مضامین اور سارتر کی خود نوشت کو اردو میں ترجمے کرنے کے ساتھ ساتھ یونانی فلسفہ کی اہم اورنامور شخصیات کے سوانح خاکے لکھے ہیں جس میں ان کی زندگی کے ساتھ ان کے فلسفے کے اہم اور بنیادی نکات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ فلسفے کے علاوہ قاضی جاوید نے شمالی ہند کے مسلمانوں کی فکری تاریخ پر بھی خاصا کام کیا ہے۔ ’ہندی مسلم تہذیب‘ ’شاہ ولی اللہ کے افکار‘،’سرسید سے اقبال تک‘ اور ’پنجاب کے صوفی دانشور‘ جیسی کتابیں ان کے شمالی ہند کی فکری اور نظریاتی تحریکوں پر علمی و تحقیقی کام ہی کا نتیجہ ہیں۔ انھوں نے ’منڈلی‘ کے عنوان سے دانشوروں اورادیبوں کے خاکے بھی لکھے ہیں۔ اپنے خاکوں میں انھوں نے اپنے ممدوح ادیبوں اور دانشوروں کی فکری اٹھان اور پہچان کو بیان کیا ہے۔
وہ ہندوستان کے مہذب، معاشی طور پر مضبوط اور سیاسی طور پر ترقی یافتہ قوموں کی ساری اچھی خوبیاں اپنی قوم کے اندر سمونے کیلئے کوشاں رہیں۔ ان کا راستہ بھی ، آج کے روشن فکر پختونوں کے راستے کی طرح رجعت پسند اور پیسہ پرست نوسربازوں نے روکا تھا، لیکن وہ چراغ سے چراغ جلاتے آگے بڑھتے گئے۔
تبصرہ: علی رضا کوثر
خالد مصطفیٰ
اشو لال سئیں سرائیکی زبان دا بھاڳوند تخلیق کار ھے۔ انھیں دی شاعری حیاتی دیاں ݙونگھیں رمزیں اچوں الویندی ھے۔ کئی وار انھیں دے شعر راہیں جیوݨی دیاں کئی ڳجھیاں پرتاں اساں تیں پہلی واری کہیں اصلوں نویں تے نہوکڑے مفہوم تے معنی نال کھلدین۔ انھیں دی شاعری اساݙے ڄاݨ سندھ وادی دے تہذیبی ول پیچ اچوں اوندے اڄوکے بندے کوئی پورے مکھ مہاندرے نال لبھݨ دی الاوݨی دی آتم جاہ تک گھن ویندی ھے۔ انھیں دی ہک نظم دا کجھ حصہ ݙیکھو ۔اساں تاں ول ول پڑھدین ہیں تے ہر واری جیوݨی دی ہک نویں تاکی کھل پوندی ھے۔ بے انت محبت اشو سئیں۔
زیر نظر کتاب پاکستان میں بائیں بازو کے سرکردہ رہنما معراج محمد خان کے حوالے سے ایک ارمغان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مجموعے میں معراج محمد خان کی خود نوشت تاریخ بولتی ہے ، بھی شامل ہے جو بد قسمتی سے ان کی زندگی میں مکمل نہیں ہو سکی۔ اس کتاب میں اُن کے مختلف ادوار میں لکھے گئے مضامین اور قومی تاریخ کے مختلف بحرانی مراحل میں دیے گئے اُن کے منتخب انٹرویوز جملہ حوالہ جات کے ساتھ شامل ہیں۔ معراج محمد خان صاحب کی سیاسی زندگی سے متعلق بعض اہم ترین دستاویزات بھی پہلی مرتبہ مدون ہو کر اس کتاب کے ذریعے منظر عام پر آرہی ہیں۔ معراج محمد خان ۱۹۵۰ء کے عشرے کے اواخر اور ۱۹۶۰ء کے عشرے کے اوائل میں ایک شعلہ بیان مقرر، ایک فعال سیاسی کارکن اور طالب علم رہنما کے طور پر قومی سیاسی منظر نامے پر طلوع ہوئے ۔ وہ تمام عمر ایک مخلص اشتراکی کی حیثیت سے سوشلسٹ انقلاب کے لیے کمر بستہ رہے۔ فومی آمریتوں اور سول ادوار میں بھی آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف مزاحمت میں اور جمہوری تحریکوں میں وہ پیش پیش رہے۔ اُن کے نظریاتی اہداف اُن کو مختلف سیاسی پلیٹ فارموں ، سیاسی جماعتوں اور سیاسی اتحادوں میں بھی لے گئے۔ ان کے بعض سیاسی فیصلے بعد ازاں خود ان کے لیے تاسف کا ذریعہ بنے مگر ان کی نظریاتی کمٹ منٹ ، بے لوٹ قیادت ، عوام دوستی اور صاف ستھری سیاسی زندگی پر کبھی حرف نہیں آیا۔
کبھی مہرباں کبھی قہر ھیں
نوبل انعام یافتہ افسانے | نیر عباس زیدی
پنجاب یونیورسٹی لاہور سے 1981 ء میں ایم اے سیاسیات اور 2007 ء میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس سی ڈیفنس اینڈ اسٹریٹیک سٹڈیز کی ڈگریاں حاصل کیں اور ایشیا پیسفک سینٹر فار سیکورٹی سٹڈیز ہونولولو ، ہوائی امریکہ سے 2004ء میں ڈیفنس اینڈ اسٹریٹیک سٹڈیز میں ڈپلومہ کے ساتھ ساتھ برمنگھم یو نیورسٹی برطانیہ سے 2008ء میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور سیکورٹی امور میں شیونگ فیلوشپ کی۔
کراچی سے لاہور کا سفر بائی روڈ